امام علی علیہ السلام رستے سے گزر رہے تھے ،رستے میں دیکھا کے ایک شخص دوسرے شخص سے بحث کر رہا تھا ۔
امام علی علیہ السلام قریب گئے ،اور اس شخص کو بلایا اور تنہائی میں فرمانے لگے،اے بندہ خدا یاد رکھنا ۔
احمق اور بےوقوف شخص کا مقابلہ اسے جواب نہ دے کر خاموشی سے کیا کرو،اس طرح لوگ تمہارے مددگار رہیں گے۔کیوں کے جو شخص بےوقوف کو جواب دیتا ہے،اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی جلتی ہوئی آگ میں بار بار لکڑیاں ڈالتا ہے۔
تو وہ پوچھنے لگا یا علی علیہ السلام معلوم کیسے ہو گا کے بیوقوف کون ہے اور عقلمند کون ۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا،
اے شخص جس انسان میں یہ علامتیں موجود ہوں تو سمجھ جانا وہ بیوقوف ہے۔تو وہ پوچھنے لگا ،
یا علی کون سی علامتیں۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا
پہلا وہ شخص جو دنیا کو صرف اپنے نظریے سے دیکھے،کسی دوسرے کی بات کو ترجیح نہ دے
دوسرا جو انسان جو بات سننے سے پہلے فورا جواب دیتا ہے ۔
تیسرا جو بار بار اپنی تعریف کرتا،اور اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہو۔
اے شخص جس انسان میں یہ تین علامتیں ہوں تو اس سے دوری اختیار کر لو ۔
کیوں کے اس کو سمجھانا یعنی اپنی تذلیل کرنا ہے۔
احمق اور بےوقوف شخص کا مقابلہ اسے جواب نہ دے کر خاموشی سے کیا کرو،اس طرح لوگ تمہارے مددگار رہیں گے۔کیوں کے جو شخص بےوقوف کو جواب دیتا ہے،اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی جلتی ہوئی آگ میں بار بار لکڑیاں ڈالتا ہے۔
تو وہ پوچھنے لگا یا علی علیہ السلام معلوم کیسے ہو گا کے بیوقوف کون ہے اور عقلمند کون ۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا،
اے شخص جس انسان میں یہ علامتیں موجود ہوں تو سمجھ جانا وہ بیوقوف ہے۔تو وہ پوچھنے لگا ،
یا علی کون سی علامتیں۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا
پہلا وہ شخص جو دنیا کو صرف اپنے نظریے سے دیکھے،کسی دوسرے کی بات کو ترجیح نہ دے
دوسرا جو انسان جو بات سننے سے پہلے فورا جواب دیتا ہے ۔
تیسرا جو بار بار اپنی تعریف کرتا،اور اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہو۔
اے شخص جس انسان میں یہ تین علامتیں ہوں تو اس سے دوری اختیار کر لو ۔
کیوں کے اس کو سمجھانا یعنی اپنی تذلیل کرنا ہے۔
Post a Comment