قبر کے اندر انسان کیا کرتا ہے

امام علی علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا 
یا علی قبر میں انسان کیا کرتا رہتا ہے

 بس یہ کہنا تھا تو 
امام علی علیہ السلام نے فرمایا 
اے شخص مرنے کے بعد برزخ میں انسان انتظار کرتا رہتا ہے،اور اس انتظار کے ساتھ پچھتاوا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔اس شخص نے پوچھا یا علی وہ کون سی چیزیں ہیں جس پر انسان پچھتاتا ہے۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا 
نو چیزوں پہ انسان بار بار قبر میں پچھتاتا رہتا ہے 
پہلی آرزو۔کے کاش میں زندگی میں تكبر نہ کرتا اپنے آپ کو مٹی کا سمجھتا 
دوسرا۔کاش میں اپنی آخری زندگی کے لئے کچھ کر لیتا 
تیسرا۔کاش میرا اعمال نامہ مجھے پڑھ کے نہ سنایا جاتا 
چوتھا۔اے کاش میں دنیا میں برے دوستوں سے بچتا فلاں فلاں شخص کی صحبت میں نہ بیٹھتا 
پانچواں۔اے کاش میں نے اللّه اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی ہوتی۔
چھٹا۔اے کاش میں رسول اللّه کا رستہ اپنانا 
ساتواں۔اے کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا جو دنیا میں اچھے اعمال کرتے تھے درس اخلاق لوگوں کو دیتے تھے۔
آٹھواں۔اے کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا 
اور آخری اے کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ مجھے پھر سے موقع ملے اور میں دنیا میں چلا جاؤں اور اپنے لئے اچھے اعمال کروں اور دنیا والوں کو چینخ چینخ کے بتاؤں کے یہ جو زندگی تم گزار رہے ہو یہ ختم ہونی ہے،اور ہر ایک چیز کا اللّه تم سے حساب لینے والا ہے،
با خدا موت کے بعد سواے اچھے اعمال کے کچھ کام نہیں آتا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post