ایک بادشاہ تھا وہ مرنا نہیں چاہتا تھا

اس کی خوائش تھی کے وہ قیامت تک زندہ رہے ایک حکیم صاحب اسے کہا "بادشاہ سلامت"فلاں ملک کی سر زمیں سے ایسی ایسی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں آب حیات کی تاثیر ہوتی ہے۔وہ کھانے سے آپ ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں اگر آپ وہ جڑی بوٹیاں منگوا لیں تو ہم آپ کو دوا بنا دیتے ہیں،جس کے کھانے کے بعد آپ جب تک چاہیں گے زندہ رہیں گے بادشاہ نے فوراًً اپنے وزرا میں سے پانچ وزیروں کو دوسرے ملک میں بھیجنے کا حکم جاری کر دیا تو جاؤ جو دوسرے ملک کے بڑے راجہ ہیں انکو میرا سلام دو اور کہو کے مجھے فلاں فلاں بوٹی کی اشد ضرورت ہے سنا ہے وہ بوٹی آپ کے ملک میں پائی جاتی ہے لہذا مجھے ان بوٹیوں کی اشد ضرورت ہے اس لیے کے میں مرنا نہیں چاہتا خیر پانچوں وزیر دوسرے ملک پونچے راجہ صاحب کو سلام دیا پیغام سنایا ہے جیسے ہی  راجہ صاحب نے سنا کہ بادشاہ مرنا نہیں چاہتا تو راجہ صاحب نے ہنسنا شروع کر دیا ہنسنے کے بعد راجہ صاحب نے فورا ہی سپاہی  بلواے اور ان سب وزیرں کو گرفتار کرا دیا پھر راجہ صاحب نے حکم جاری کر دیا کے ان سب کو لے جاؤ فلاں پہاڑ کے نیچے ایک خیمے کے اندر بند کر کے آؤ فلاں پہاڑ کے نیچے ایک خیمہ ہے بند خیمہ ان پانچ وزیرں کو لے کے جاؤ اس خیمے کے اندر بند کر کے واپس آجاؤ اور ہاں ساتھ ان پانچ وزیرں کو یہ بھی کے دینا کے جب تک یہ پہاڑ دو ٹکڑے نہیں ہو جاتا تم آزاد نہیں ہو گے جس پہاڑ کے نیچے تم پڑے ہو جب تک یہ پہاڑ دو ٹکڑے نہیں ہوتا تم آزاد نہیں ہو گے سپآہی ان پانچ وزیرں کو لے گئے پہاڑ کے نیچے خیمے کے اندر بند کر دیا اور واپس چلے آے 
اب ان پانچ وزیرں کو چاروں طرف موت کے آثار نذر آنے لگے کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا مشکل کی اس گھڑی میں اللّه کے سوا انکا کوئی حامی نہیں تھا اب انہوں نے کیا کیا زمین پر سجدہ ریز ہو گئے رو رو کر گڑ گڑا کر دعاین کرنے لگے یا باری تعالیٰ ہم پر رحم فرما پہاڑ کے دو ٹکڑے کر دے تا کے ہم موت سے بچ جایں ہم آزاد ہو جایں 


اللّه اکبر 
سارا دن ساری رات روتے ہی رہے ان کے دن رات رونے کے بعد میرے اللّه کی رحمت جوش میں آئ میرے اللّه نے ان پر رحم فرمایا ان کی دعا قبول ہوئی ایک دم زمین ہلنے لگی زلزلا آیا پہاڑ جڑو ں سے ہلنے لگا اور پہاڑ کے دو ٹکڑے ہو گے 
اللّه اکبر اللّه اکبر 
انکی دعا قبول ہو گئی 
اب راجہ صاحب نے آرڈر دیا کے ہماری شرط پوری ہوگئی ہے پہاڑ کے دو ٹکڑے ہو گئے اب جاؤ ان پانچوں وزیروں کو میرے پاس لے آؤ ،سپآہی گئے اور لے آے ،جب وہ سامنے آے تو راجہ صاحب نے کہا ،اب تم واپس اپنے ملک میں جاؤ ،اپنے بادشاہ کو یہ سارا واقعہ سنا دو جو کچھ آپ لوگوں کے ساتھ ہوا ہے یہ ساری کہانی اپنے بادشاہ کے آگے پیش کر دینا آخر میں بادشاہ کو میرا ایک پیغام بھی سنا دینا 
وزیرں نے کہا جی راجہ صاحب کونسا پیغام ہے 
راجہ صاحب نے کہا 
اپنے بادشاہ کو کہنا کے پانچ لوگوں کی بد دعا جس طرح پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے بلکل اسی طرح پانچ کروڑ عوام کی بد دعاین بھی بادشاہ کی زندگی کو مٹی میں ملا سکتی ہیں اور اقتدار کو بھی مٹی میں ملا سکتی ہیں 
اپنے بادشاہ کو کہنا کے اے بادشاہ 
اگر تم اپنی لمبی زندگی اور لمبا اقتدار چاھتے ہو تو غریب عوام کی بد دعاوں سے بچنا ۔جب تم غریب عوام کی بد دعا سے بچ گئے پھر تمہیں کوئی بوٹی دوا کی ضرورت نہیں رہے گی ،قیامت تک تیرا ہی چرچا رہے گا 

Post a Comment

Previous Post Next Post