پسند کی شادی کرنے کا اسلامی طریقہ

کیا پسند کی شادی جائز ہے

بلکل پسند کی شادی جائز ہے ،لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کے غیرت کا جنازہ نکالا جائے اس کا مطلب یہ نہیں کے اسلامی اقدار کو ذبح کیا جائے
قرآن کریم فرماتا ہے پسند کی شادی کرے تو کس طرح کرے
سورہ نساء میں اللّه اعلان فرماتے ہیں
"فرمایا "شادی وہاں کرو جہاں دل کی پسندیدگی ہو
اس کا مطلب یہ نہیں کے کسی کی بیٹی کسی کی بہن کی عزت خراب کرو اس کو بھگا کے لے جاؤ ،
کورٹ میرج لوو میرج کا رواج چل پڑا ہے ،گھر سے بھگا کے ۔۔لے پڑے ہیں،اور یہ اور وہ کر کے
Life is achi without any bachi اس طرح کے جملے کہہ کر اسلامی اقدار کو ذبح کیا جا رہا ہے ،یوں پسند کی شادی نہیں ہے ،اگر آپ کا کسی جگہ دل آ گیا ہے ،دل آنے کا طریقہ یہ بھی نہیں ہے کے آپ نے آنکھ لڑائی ہے ،
بہن سے سنا ہے ،بھائی سے سنا ہے ،ابو سے سنا ہے ،کسی اور سے سنا ہے ،آپ کو اچھا لگا کے وہ خاتون دین دار ہے ،اچھی ہے ،میں اس سے شادی کر لوں ،اپنی امی سے کہیں ،اپنے ابو سے کہیں ،اپنے چاچو سے کہیں ،۔
اسی طرح خاتون کسی مرد کو پسند کرتی ہے ۔پسند کرنے پر پابندی نہیں ،چاہنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ،لیکن اپنی امی سے کہے ۔اپنی بڑی بھن سے کہے ،اپنی بھابھی سے کہے ،اپنی پھپھو سے کہے ،اپنی ممانی سے کہے ،اپنی چچی سے کہے ،اپنی دادی کو کہے اپنے گھر والوں کو کہے ،غلط راستہ نہیں صحیح رستہ استعمال کرے ،صحیح طریقے پر ہو اسلامی اقدار پر ہو



پسند کی شادی جائز ہے یہ نہیں کے آپ کسی کی بہن بیٹی کی عزت کا جنازہ نکالو اور پھر کہو جی پسند کی شادی قرآن حکم کرتا ہے
جانور ذبح کریں گے حلال ہوگا شرط یہ ہے جانور اپنا ہو اس کے آپ مالک ہوں
اسی طرح پسند کی شادی کریں گے اچھا ہو گا شرط یہ ہے
ماں باپ کو کہہ کر اپنے اقدار اور اسلامی روایات کی پاسداری سے کریں ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post