امام جحفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص آیا،اور عرض کرنے لگا اے نواسہ رسول ،قبر میں انسان کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے
،انسان کا جسم کیسے گلنے لگتا ہے،بس یہ کہنا تھا تو امام جحفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کے افسوس ہے انسان اپنے وجود سے نہ واقف ہے ،مجھے حیرت ہے ان ان لوگوں پر جو تکبر کیا کرتے ہیں،
اے شخص یاد رکھنا قبر میں سب سے پہلے دو سے تین دن کے اندر انسان کے ناک کی حالت تبدیل ہونے لگتی ہے۔اور پھر چھ سے سات دنوں کے اندر انسان کے ناخن خود بخود جھڑنے لگتے ہیں اور نو سے دس دنوں کے اندر پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے،اور بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں،اور سترہ دنوں کے اندر ہی پیٹ پھٹ جاتا ہے پیٹ کے اجزاه باہر آ جاتے ہیں،اس وقت انسان کے جسم سے کیڑے مکوڑے اس طرح سے لپٹے ہوتے ہیں کے جیسے وہ کبھی زندہ ہوا ہی نہ ہو اور وہ کہنے لگتے ہیں،کہاں گیا تمہارا تکبر،کہاں گئ تمہاری عزت،کہاں گیا تمہارا روب ۔اور یوں رفتہ رفتہ انسان کے جسم کا سارا گوشت کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں،اور نوے دن کے اندر انسان کے جسم کی ہڈیاں ایک دوسرے سے الگ ہونے لگتی ہیں۔اور ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہونے لگتی ہیں،اور دو سالوں کے اندر ہڈیوں کا وجود ختم ہونے لگتا ہے۔
اے شخص دیکھو،یہ ہے انسان جو اپنے آپ کو اعلی،محترم،اور دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔
بتاؤ کون ہے جو تا حیات زندہ رہا ہو اس زمین پہ بادشاہ سے لے کے فقیر تک سبکو مرنا ہے،تو وہ کہنے لگا اے نواسہ رسول کوئی ایسا عمل جس سے میرا جسم سلامت رہے،میرا جسم نہ گلے میری یہ حالت نہ ہو۔
بات جب یہاں تک پونچی
تو نواسہ رسول امام جحفر صادق علیہ السلام نے فرمایا
وہ عمل یہ ہے کے تم تکبر نہ کیا کرو
اپنے آپ کو دوسروں سے اعلی اور عظیم نہ سمجھا کرو
کیوں کے تکبر صرف اللّه کو زیب دیتا ہے
میں نے اپنے بابا
انہوں نے اپنے بابا
انہوں نے اپنے بابا
اور انہوں نے اللّه کے رسول حضرت محمّد مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم سے سنا
کہ جو انسان اپنے آپ کو تكبر سے پاک رکھتا ہے تو اس کا جسم قبر میں اسے سلامت رہتا ہے جیسے زندہ انسان زندگی میں سلامت ہوتے ہیں ۔
اے شخص یاد رکھنا قبر میں سب سے پہلے دو سے تین دن کے اندر انسان کے ناک کی حالت تبدیل ہونے لگتی ہے۔اور پھر چھ سے سات دنوں کے اندر انسان کے ناخن خود بخود جھڑنے لگتے ہیں اور نو سے دس دنوں کے اندر پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے،اور بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں،اور سترہ دنوں کے اندر ہی پیٹ پھٹ جاتا ہے پیٹ کے اجزاه باہر آ جاتے ہیں،اس وقت انسان کے جسم سے کیڑے مکوڑے اس طرح سے لپٹے ہوتے ہیں کے جیسے وہ کبھی زندہ ہوا ہی نہ ہو اور وہ کہنے لگتے ہیں،کہاں گیا تمہارا تکبر،کہاں گئ تمہاری عزت،کہاں گیا تمہارا روب ۔اور یوں رفتہ رفتہ انسان کے جسم کا سارا گوشت کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں،اور نوے دن کے اندر انسان کے جسم کی ہڈیاں ایک دوسرے سے الگ ہونے لگتی ہیں۔اور ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہونے لگتی ہیں،اور دو سالوں کے اندر ہڈیوں کا وجود ختم ہونے لگتا ہے۔
اے شخص دیکھو،یہ ہے انسان جو اپنے آپ کو اعلی،محترم،اور دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔
بتاؤ کون ہے جو تا حیات زندہ رہا ہو اس زمین پہ بادشاہ سے لے کے فقیر تک سبکو مرنا ہے،تو وہ کہنے لگا اے نواسہ رسول کوئی ایسا عمل جس سے میرا جسم سلامت رہے،میرا جسم نہ گلے میری یہ حالت نہ ہو۔
بات جب یہاں تک پونچی
تو نواسہ رسول امام جحفر صادق علیہ السلام نے فرمایا
وہ عمل یہ ہے کے تم تکبر نہ کیا کرو
اپنے آپ کو دوسروں سے اعلی اور عظیم نہ سمجھا کرو
کیوں کے تکبر صرف اللّه کو زیب دیتا ہے
میں نے اپنے بابا
انہوں نے اپنے بابا
انہوں نے اپنے بابا
اور انہوں نے اللّه کے رسول حضرت محمّد مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم سے سنا
کہ جو انسان اپنے آپ کو تكبر سے پاک رکھتا ہے تو اس کا جسم قبر میں اسے سلامت رہتا ہے جیسے زندہ انسان زندگی میں سلامت ہوتے ہیں ۔
Post a Comment