حضرت سلیمان علیہ السلام اور جنات کی جنگ

جب اللّه کی نبی داود علیہ السلام کے  وارث سلیمان علیہ السلام  نبی ہوئے،تو وہ اللّه کے دربار میں دعا مانگنے لگے کے اے اللّه،مجھے وہ مرتبہ عطا فرما جو مجھ سے پہلے نا کسی کو ملا اور نہ میرے بعد کسی کو ملے ۔


اور ایک عجیب دور تھا لوگ جنّات اور کالا جادو پہ زیادہ یقین رکھتے تھے،اللّه نے اپنے نبی سلیمانؑ کے لئے چرند پرند ،ہوا اور جنات کو ماتحت کر دیا،تو بس اللّه کے نبی سلیمان علیہ السلام جہاں کہیں بھی کفر،نفرت انسانوں پہ ظلم دیکھتے تھے تو آ کے اپنے محجزات دکھاتے تھے،
اور یوں انسان آپ کو اللّه کا نبی سمجھ کر صحیح رستے پر آ جاتے،اگر کوئی جن کسی انسان کے گروہ پر حملہ کرتا تھا اسے نقصان پہنچاتا تھا تو آپ اس جن کو زنجیروں میں جکڑ دیتے تھے،
 آپ کا تخت فضا اپنے کندھوں پر اٹھاتے پھرتی تھی،آپ آسمانوں میں پرواز کرتے تھے۔
تو ویسے ہی آپ آسمان میں پرواز کر رہے تھے،اتنے میں ایک جن آپ سے آ کے کہنے لگا 
اے اللّه کے نبی،زمین پہ بابل کے پاس جنّات کا ایک گروہ انسانوں پہ ظلم کرتا ہے،اور وہاں کے جن انسانوں میں حلول کرتے ہیں،اور پھر انسانوں کو تکلیف دے کر یہ منواتے ہیں کے ان کے پاس غیب کا علم ہے،اور یوں انسان بھی صراط مستقیم سے ہٹ رہے ہیں۔
جیسے ہی اللّه کے نبی سلیمان علیہ السلام نے اس بات کو سنا،تو آپ اپنے تخت کو بابل کی طرف موڑ دیتے ہیں،اور اس گروہ کے پاس آ کر کہتے ہیں 
اے تكبر میں رہنے والو،اللّه سے ڈرو
وہ جنّات کا گروہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طاقت سے نہ واقف تھا،ان میں سے ایک جن لهاب کہنے لگا،ہم کسی سے نہیں ڈرتے ہم اپنی مرضی چلاتے ہیں۔
اور اس کے قبائل کے کچھ جن حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کے چاروں طرف آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اگر تو واقع سچا ہے تو ہمیں قید کر کے دکھا۔تو بس اللّه کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے ہی اپنی عصہ ان جنّات کی طرف کرتے ہیں تو ہوا اور مٹی کا ایک عجیب طوفان اٹھتا ہے،اور زمین کو چیر کے لوہا نکلتا ہے،اور زنجیروں میں تبدیل ہو جاتا ہے،اور وہ زنجیریں ہر اس جن کی گردنوں پہ آ پڑتی ہیں وہ تمام کے تمام جن زمین بوس ہو جاتے ہیں،اور اللّه کے نبی سلیمان علیہ السلام کے قدموں میں گر کر کہتے ہیں کے آپ کون ہیں۔
پھر آپ فرماتے ہیں 
میں اللّه کا نبی داود کا بیٹا سلیمان ہوں 
اور اللّه نے مجھے اس زمین پہ امن اور سلامتی کے لئے منتخب کیا ہے ،اے گروے جن خبر دار ہو جاؤ اس زمین پہ فساد نہ پھیلاؤ ورنہ اللّه کا عذاب تمہیں تباہ کر دے گا۔
اور یوں وہ سارا گروہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی نبوت اور اللّه کی وحدانیت کو تسلیم کرتا ہے،اور پھر سب کے سب امن محبت اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کے کبھی بھی کسی انسان کو تکلیف نہیں دیں گے۔
بیشک اللّه جسے چاہے اپنی خاص رحمت اور طاقت سے نواز دیتا ہے وہ ہر دعا کو سننے والا اور سب پہ کرم کرنے والا ہے۔
اے اللّه اس پورے جہاں پہ اپنا کرم فرما اور ہر انسان کی دعا کو قبول و مقبول فرما 
آمین۔

Post a Comment

Previous Post Next Post