یہ جو زمین جس پہ انسان رہتے ہیں،اس زمین پہ آدم کی خلقت سے لاکھوں سال پہلے جنّات اور سینکڑوں مخلوقات رہتی تھیں،اللّه کے ولی حضرت شاہ شمس تبریز سے پوچھا گیا کے آپ کہتے ہیں بلی کا رونا انسان کے لیے بہتر نہیں ہوتا۔ ایسا کیوں ؟؟؟ تو شاہ شمس تبریز نے فرمایا،کے خلقت آدم سے لاکھوں سال پہلے جب زمین پہ جنّات رہتے تھے کچھ مخلوقات سے جنّات نفرت کرتے تھے تو کچھ سے پیار تو ویسے ہی جنّات کا راجہ عزازیر جس کی ایک بیوی تھی اس کا نام قبیرا تھا وہ بلیوں سے پیار کرتی تھی اور یوں جنّات اور بلياں ساتھ رہنے لگے
اگر کوئی جانور بلیوں کی جتنی بھی نسل موجود تھی اسے کوئی تکلیف ہوتی تھی تو اسکا بدلہ جنّات لیا کرتے تھے،لیکن جب اللّه نے جنّات کی طاقت کو محدود کیا اور ان کے لیے صرف رات کو رکھ دیا تو یہ سلسلہ جانوروں اور جنّات کا ٹوٹ گیا۔لیکن قبیرا نے کہا اے میرے اللّه ہمیں تو تنہا نا کر ہمیں اتنا اکیلا نا کر تو کچھ جانوروں کو یہ طاقت دی گئی کے وہ جنّات سے بات کر سکیں اور ان کو دیکھ سکیں ،اور ان جانوروں میں بلياں بھی شامل ہیں۔
اصّل میں جنّات کے ایام جو زمین پر بسر کرتے ہیں انسان سے 7 دن آگے ہوتے ہیں جو زمین پر ہوتا ہے وہ 7 دن پہلے جنّات دیکھ چکے ہوتے ہیں،تبھی جب کوئی مرنے والا ہوتا ہے،جس گھر میں انتقال ہوتا ہے یا جب فرشتے آتے ہیں۔اللّه نے بلی کی آنکھوں میں یہ طاقت رکھی ہے کے وہ جنّات کو دیکھ سکیں اور فرشتاے موت کو دیکھ سکیں تو وه درد والی آواز میں رونے لگتی ہے یہ بتانے لگتی ہے
کہ اے انسان یہ زندگی جس کو تو ہمیشہ کے لیے سمجھتا ہے جیسے یہ آج مرنے والا ہے ایسے سب مر جایں گے،اپنے اعمال بہتر کرو ،تو لوگوں نے کہا کے اے اللّه کے ولی اگر ہمارے گھر میں ہمارے آس پاس کوئی بلی روے تو ہم کیا کریں
تو حضرت شمس شاہ تبریز نے کہا تو حسب توفیق صدقہ نکالا کرو اور 27 مرتبہ چاروں قل کا ورد کر کے اپنے اللّه سے دعا مانگا کرو اللّه ہر پریشانی سے تمہیں محفوظ رکھے گا۔اور اگر تم کسی بڑے سفر پہ جا رہے ہو اور اگر بلی سیدھے طرف سے الٹے طرف چلی جائے اور اگر پھر مڑ کے تمھارے چہرے کی طرف دیکھے تو پھر سمجھ جانا کے یہ اللّه کی مخلوق تمہارے طرف اشارہ دے رہی ہے کہ تمہاری طرف کوئی خطرہ ہے
اس وقت بھی صدقہ دیا کرو اور فورا 27 مرتبہ چاروں قل پڑھ کہ پھر سفر کی طرف اپنے قدم بڑھایا کرو اللّه تمہیں ہر خطرے سے محفوظ رکھے گا۔
لیکن اگر بلی رستہ کاٹنے کے بعد مڑ کے نا دیکھے تو اس کہ مطلب کے وہ انجانے میں تمہارا رستہ کاٹ گئی اس کا کوئی مقصد نہیں۔
اصّل میں جنّات کے ایام جو زمین پر بسر کرتے ہیں انسان سے 7 دن آگے ہوتے ہیں جو زمین پر ہوتا ہے وہ 7 دن پہلے جنّات دیکھ چکے ہوتے ہیں،تبھی جب کوئی مرنے والا ہوتا ہے،جس گھر میں انتقال ہوتا ہے یا جب فرشتے آتے ہیں۔اللّه نے بلی کی آنکھوں میں یہ طاقت رکھی ہے کے وہ جنّات کو دیکھ سکیں اور فرشتاے موت کو دیکھ سکیں تو وه درد والی آواز میں رونے لگتی ہے یہ بتانے لگتی ہے
کہ اے انسان یہ زندگی جس کو تو ہمیشہ کے لیے سمجھتا ہے جیسے یہ آج مرنے والا ہے ایسے سب مر جایں گے،اپنے اعمال بہتر کرو ،تو لوگوں نے کہا کے اے اللّه کے ولی اگر ہمارے گھر میں ہمارے آس پاس کوئی بلی روے تو ہم کیا کریں
تو حضرت شمس شاہ تبریز نے کہا تو حسب توفیق صدقہ نکالا کرو اور 27 مرتبہ چاروں قل کا ورد کر کے اپنے اللّه سے دعا مانگا کرو اللّه ہر پریشانی سے تمہیں محفوظ رکھے گا۔اور اگر تم کسی بڑے سفر پہ جا رہے ہو اور اگر بلی سیدھے طرف سے الٹے طرف چلی جائے اور اگر پھر مڑ کے تمھارے چہرے کی طرف دیکھے تو پھر سمجھ جانا کے یہ اللّه کی مخلوق تمہارے طرف اشارہ دے رہی ہے کہ تمہاری طرف کوئی خطرہ ہے
اس وقت بھی صدقہ دیا کرو اور فورا 27 مرتبہ چاروں قل پڑھ کہ پھر سفر کی طرف اپنے قدم بڑھایا کرو اللّه تمہیں ہر خطرے سے محفوظ رکھے گا۔
لیکن اگر بلی رستہ کاٹنے کے بعد مڑ کے نا دیکھے تو اس کہ مطلب کے وہ انجانے میں تمہارا رستہ کاٹ گئی اس کا کوئی مقصد نہیں۔
Post a Comment