ایک بادشاہ تھا ،بادشاہ جو ہوتے ہیں ان کے اپنے اپنے مزاج ہوتے ہیں اس بادشاہ نے چار پانچ چھ کتے رکھے ہویے تھے اور کتے بڑے بڑے کتے تھے اور بڑے خون خار کتے تھے جو چیر پھاڑ کر کھا جاتے تھے شیر جتنے ان کے قد تھے ،بادشاہ تھوڑا سا کسی آدمی سے ناراض ہوتا تو ایک بہت بڑے پنجرے کے اندر ایک بہت بڑا سلاخوں کا گھر اس نے بنایا ہوا تھا اس میں کتے ہوتے تھے اور کتے کو جب باندھ کے رکھا جاتا ہے تو وہ زیادہ زہریلا ہو جاتا ہے زیادہ اس کے اندر کرواہٹ آتی ہے زیادہ کاٹتا ہے،اس نے قید کیے ہوئے تھے کتے تو بڑے زہریلے تھے جس آدمی سے تھوڑا ناراض ہوتا تو وہ کتے کے آگے اس آدمی کو ڈالتا اور وہ کتے اس کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے ،یہ سزا تھی ۔لوگوں کو پتہ تھا ۔بادشاہ کے وزیر نے بڑی خدمت کی بادشاہ کی 35 سال تک نوکری کی ،لیکن ہر سورج نے غروب تو ہونا ہی ہے ،ہر چاند نے ڈھلنا بھی ہوتا ہے ۔اب بوڑھا ہونے لگا وہ جو مضبوط حافظہ تھا وہ کمزور ہونے لگا ہلکی ہلکی غلطی ،بادشاہ مزاج کا بادشاہ تھا ۔اور نہیں سمجھ میں آیا تو میں نے کہا کے لوگ کہتے ہیں
ہمیں کم پیارا اے چم ناہی ،تو رشتہ وفا کا تھا ہی نہیں ،وزیر سمجھنے لگا کہیں اب غلطیاں کرنے لگا ہوں تو ایسا نا ہو کسی دن میں بھی ان کتوں کا شکار ہو جاؤں اس نے بادشاہ سے کہا کے بادشاہ مجھے چھٹی دے دی جائے ۔میں بوڑھا ہو گیا ہوں ،وزیر ڈر کے مارے آہستہ آہستہ معذرت کرنے لگا قدم ہٹانے لگا ،بادشاہ نے کہا نہیں نہیں جب تک میری طبیعت نہیں چاہتی تم نہیں جا سکتے ۔وزیر خاموش ہو گیا پریشان رہنے لگا غلطی ہو گی یہ تو پھینک دے گا ،ایک تجویز اس کے ذہن میں آئ وه جو کتوں کے پنجرے پر محافظ بیٹھا تھا جو کتوں کو کھانا ڈالتا تھا روٹی ڈالتا تھا گوشت ڈالتا تھا ،وزیر اس کو ایک دن کہنے لگا تیری ڈیوٹی ہے سارا دن کتوں کو کھانا دینے کی گوشت دینے کی تو دو چار دن ڈیوٹی مجھے نہیں دیتا اس نے کہا ۔تو لے لے میں تو پہلے ہی پریشان ہوں سارا دن ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں ۔وزیر نے کچھ تھوڑا سا گوشت لیا پنجر ے کے باہر کھڑے ہو کر کتوں کو ڈالا اگلے دن تھوڑی روٹياں لے آیا کتوں کو ڈالی ۔دو چار دن ،ہفتہ ،مہینہ ۔سال بھر جتنا اس کو موقع ملا وه دن بھر خدمت کرتا رہا ،بس وقت ایک دن آگیا ،یہ بات بادشاہ کو اچھی نا لگی اس نے کہا بڈھے کو اٹھاؤ اور ڈالو پنجرے میں یہ ساری زندگی یہاں رہا اسے ابھی تک نہیں پتہ چلا میرے مزاج کا ،جب اس کو اٹھا کے پنجرے میں ڈالا گیا تو بجاے اس کے کے کتے اس کو کاٹ کھاتے کتے اس کو پیر چومنے لگے ،ہاتھ چومنے لگے چاٹنے لگے تو بادشاہ اب سامنے کھڑا تھا نظآرا دیکھنے کو کتے چیر پھاڑ کرتے تو خوش ہوا کرتا تھا خون خار درندے جیسی طبعیت ہوگئی اس کی ۔جب دیکھا وہ پیار کر رہے ہیں تو بادشاہ وزیر سے کہنے لگا یہ کیا ہے تو وزیر رو پڑا اور کہنے لگا تو سیاست دان تھا تو میں بھی سیاست دان تھا ،ساری زندگی سیاست کی لیکن دنیا داروں کے ساتھ رہا ۔انجام یہ ہوا کے مجھے اس پنجرے میں ڈال دیا گیا دیکھ تو بہت بڑا سیانا تھا اور میں بھی سمجھ دار تھا وزیر رہا لیکن ہمارا روح کا رشتہ نا بن سکا ارے ہم سے تو یہ کتے ہی اچھے نکلے تیری 35/ 40 سال خدمت کی تو نے کتوں کے آگے ڈال دیا انھے تو چند مہینے روٹی ڈالی ہے میرے وفا دار ہو گئے
جنہاں تناں وچ عشق نا رچیا کتے اناں تھی چنگے
مالک دے کر راکھی ،کردے صابر پھوکھے ننگے
ہمیں کم پیارا اے چم ناہی ،تو رشتہ وفا کا تھا ہی نہیں ،وزیر سمجھنے لگا کہیں اب غلطیاں کرنے لگا ہوں تو ایسا نا ہو کسی دن میں بھی ان کتوں کا شکار ہو جاؤں اس نے بادشاہ سے کہا کے بادشاہ مجھے چھٹی دے دی جائے ۔میں بوڑھا ہو گیا ہوں ،وزیر ڈر کے مارے آہستہ آہستہ معذرت کرنے لگا قدم ہٹانے لگا ،بادشاہ نے کہا نہیں نہیں جب تک میری طبیعت نہیں چاہتی تم نہیں جا سکتے ۔وزیر خاموش ہو گیا پریشان رہنے لگا غلطی ہو گی یہ تو پھینک دے گا ،ایک تجویز اس کے ذہن میں آئ وه جو کتوں کے پنجرے پر محافظ بیٹھا تھا جو کتوں کو کھانا ڈالتا تھا روٹی ڈالتا تھا گوشت ڈالتا تھا ،وزیر اس کو ایک دن کہنے لگا تیری ڈیوٹی ہے سارا دن کتوں کو کھانا دینے کی گوشت دینے کی تو دو چار دن ڈیوٹی مجھے نہیں دیتا اس نے کہا ۔تو لے لے میں تو پہلے ہی پریشان ہوں سارا دن ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں ۔وزیر نے کچھ تھوڑا سا گوشت لیا پنجر ے کے باہر کھڑے ہو کر کتوں کو ڈالا اگلے دن تھوڑی روٹياں لے آیا کتوں کو ڈالی ۔دو چار دن ،ہفتہ ،مہینہ ۔سال بھر جتنا اس کو موقع ملا وه دن بھر خدمت کرتا رہا ،بس وقت ایک دن آگیا ،یہ بات بادشاہ کو اچھی نا لگی اس نے کہا بڈھے کو اٹھاؤ اور ڈالو پنجرے میں یہ ساری زندگی یہاں رہا اسے ابھی تک نہیں پتہ چلا میرے مزاج کا ،جب اس کو اٹھا کے پنجرے میں ڈالا گیا تو بجاے اس کے کے کتے اس کو کاٹ کھاتے کتے اس کو پیر چومنے لگے ،ہاتھ چومنے لگے چاٹنے لگے تو بادشاہ اب سامنے کھڑا تھا نظآرا دیکھنے کو کتے چیر پھاڑ کرتے تو خوش ہوا کرتا تھا خون خار درندے جیسی طبعیت ہوگئی اس کی ۔جب دیکھا وہ پیار کر رہے ہیں تو بادشاہ وزیر سے کہنے لگا یہ کیا ہے تو وزیر رو پڑا اور کہنے لگا تو سیاست دان تھا تو میں بھی سیاست دان تھا ،ساری زندگی سیاست کی لیکن دنیا داروں کے ساتھ رہا ۔انجام یہ ہوا کے مجھے اس پنجرے میں ڈال دیا گیا دیکھ تو بہت بڑا سیانا تھا اور میں بھی سمجھ دار تھا وزیر رہا لیکن ہمارا روح کا رشتہ نا بن سکا ارے ہم سے تو یہ کتے ہی اچھے نکلے تیری 35/ 40 سال خدمت کی تو نے کتوں کے آگے ڈال دیا انھے تو چند مہینے روٹی ڈالی ہے میرے وفا دار ہو گئے
جنہاں تناں وچ عشق نا رچیا کتے اناں تھی چنگے
مالک دے کر راکھی ،کردے صابر پھوکھے ننگے
Post a Comment